راجہ
راجہ
راجہ
جس مول بھاجی اس مول کھاجا
اس مول کھاجا ہو
راجہ
راجہ
راجہ نے
کچھ گھوڑے ہیں پالے
انہیں نا کوئی فکر نا چنتا
یہ ہیں محلوں والے
پڑ
اپنی جان کے لالے
رہے ہیں
جس مول بھاجی اس مول کھاجا
اس مول کھاجا ہو
راجہ
راجہ
ہو تو
عرض سنو ایک موری
کون ناگر سے آئے ہو تم
ٹوری
انکا
انکی جات نا پوچھو
ان لوگوں
دن رات نا پوچھو
کسی قوم یا کسی دیش کے
ہوں یہ رہنے والے
ان کی نیسل
گورے ہوں
باہر سے ہیں روپ الگ پر
اندر سے ایک جیسا
گوٹ
دھرم ہیں انکا پیسہ ہوئے
دھرم ہیں انکا پیسہ ہوئے
دھرم ہیں انکا پیسہ ہوئے
دھرم تیرا
تو
تو
کالو دھندھو جو کارتو ہو
میں جاگ کا
میں
آنو دیکر پانی لیلو
جسکو لگی ہو پیاس
تو
ہر مال تازہ، ہر مال تازہ
سے
اور کسیپے دل یہ اپنا جال
جان سکے سکے
ہم تیری ہر ایک چل وہ وہ
پانی بیچکر خون کمائی
راجہ
راجہ۔
سنو ہماری بات او بندھو
اس سنسار میں ہر وستو کا
آتا دال اور چاول بیچے
جڑی بوٹیاں سربت بیچین
بال بیچین بلوان جگت میں
امن کی رکشک کومے بیچین
ہاں تو
تو
پھر میںنے پانی بیچا
تو
میںنے جو پانی بیچا
تو
راجہ
راجہ
جس مول بھاجی اس مول کھاجا
اس مول کھاجا ہو
راجہ
راجہ
راجہ۔
If you enjoyed Andher Nagari Chaupat Raja lyrics in Hindi, please share it with your friends and family. We work hard to get you the latest updates.