سلوٹوں میں
راتوں کی الجھن درز دکھے
سوکھے پھول کو
کتاب ہی اپنا گھر لگے
ہو او او
گھر یا دیوار
آبھار یا بھار
سر دھن سوار
سوالوں کی من میں قطار
کھیالوں کی بنی
کیا دریا راجی تھی
جو ساگر سے ملی سے ملی
کیا دریا راجی تھی
جو ساگر لکھا ہوگا وہی
کیا دریا راجی تھی
جو ساگر سے ملی سے ملی
کیا دریا راجی تھی
جو ساگر یہی ہے نیتی
کیا دریا راجی تھا
جو ساگر سے مل گیا
کیا دریا راجی تھی
جو ساگر کیسے نا وہ مانتی
گرہا دریا جریا بنتی گھلتی
ساگر کو گھر اپنا چنتی
چاہے جیسی بھی ہو چنوتی
بھول جا
بنا پوچھے موسم بدلا ہے
گیارہ گیارہ سمیہ ہو رہا ہے
بھنا وہ میں کھونے سے پہلے
کاٹوں کی بھی تو سوچتے
لہروں کے پار
ہو ویسا پیار
امبر زمین جہاں ایک دھار
ملتے دکھیں چاہے دور دار راہیں
کیا دریا راجی تھی
کیا دریا راجی تھی
کیا دریا راجی تھی
If you enjoyed Dariya lyrics in Hindi, please share it with your friends and family. We work hard to get you the latest updates.