اسکی شیروں جیسی چال
غصہ آنکھوں میں اقبال
جو بھی آیا سامنے
سمجھو بگڑے اسکے ہال
سرپھرے ارادے ضدی ہیں
چل آسمان کے کاندھے چڑھ جائے
باندھ کے طوفان کو مٹھی میں
چل سرچڈھے دریا سے لڑ جائے
شک ہے تجھکو کوئی تو ہمکو آجما
لکھ دیںگے ایک نئی انوکھی داستاں
چلتی ہواؤں کے رخ آج بدلنے کو
ہیں تیار ہیں تیار ہیں تیار ہیں تیار
چھانو کو چھوڑ کے سورج میں جلنے کو
ہیں تیار ہم ہیں تیار ہو ہو او
چلے بہوت یہاں وہاں ہم تو
دوڑنا ہے اب تو
ٹوٹے ہوئے سبھی ستاروں کو
جوڑنا ہے اب تو
ہاری ہوئیی سبھی باجیوں کو
یار ہم جیتینگے
گھسے پٹے تھکے روازوں کو
توڈنا ہے ہم کو
ہوصلیں ہے پکّی مٹی کے
جو بات صحیح ہے اس پے اڑ جائے
سر پے چڑھ کے تانڈو کر ڈالے
مزاج جو اپنے بگڑ جائے
جو ہوگا دیکھ لیںگے ہے بیباکیاں
سینے میں آگ ہے آنکھوں میں آندھیاں
تالے سب توڑ کے گھر سے نکلنے کو
ہیں تیار ہیں تیار ہیں تیار ہیں تیار
چھانو کو چھوڑ کے سورج میں جلنے کو
ہیں تیار ہم ہیں تیار ہو ہو او
اسکی شیروں جیسی چال
غصہ آنکھوں میں اقبال
جو بھی آیا سامنے
سمجھو بگڑے اسکے ہال
Check out web Story : Hain Taiyyar Web Story.
If you enjoyed Hain Taiyyar lyrics in Hindi, please share it with your friends and family. We work hard to get you the latest updates.