ٹکڑے ہوئے ہیں
الفاز-ای-دل کے میرے
خلطی فضائیں
زخم کریدے میرے
تھا جو تیرا نام میرے
ہونٹھوں پے گم ہو گیا
شکویں وفائیں بہاریں
سنگ تیرے سب مٹ گیا
بیٹھا ہوں پھر بھی
ادھوری میں لیکے کتاب
کہانی ہو پوری تجھی پے
کروں اعتبار
بیٹھا ہوں پھر بھی
ادھوری میں لیکے کتاب
کہانی ہو پوری تجھی پے
کروں اعتبار
جھلمل-سی آنکھیں
جنکے سہارے
تیرے ہر ایک پل میں
کرتا رہا سفر
ڈھلے شامیں ایسی
زندگی کی میری ہمدم
کٹتی نہیں یہ رات
کانٹوں جیسے لگے
رتو برکھا کے موسم
تیرے جانے کے بعد
تھا جو تیرا نام میرے
ہونٹھوں پے گم ہو گیا
شکویں وفائیں بہاریں
سنگ تیرے سب مٹ گیا
بیٹھا ہوں پھر بھی
ادھوری میں لیکے کتاب
کہانی ہو پوری تجھی پے
کروں اعتبار
بیٹھا ہوں پھر بھی
ادھوری میں لیکے کتاب
کہانی ہو پوری تجھی پے
کروں اعتبار
بیٹھا ہوں پھر بھی
ادھوری میں لیکر کتاب
If you enjoyed Kitaab lyrics in Hindi, please share it with your friends and family. We work hard to get you the latest updates.