یہ کیسی فطرت ہے جانیا
مجھے تو حیرت ہے جانیا
تو پہلے میری حسرت نا جانیا
تو اب میری نفرت ہے جانیا
مجھکو اب ہوش رہا نا
پل پل جیسے مر جانا
اور کرے نا ہم اعتراض بھی
کرکے برباد ہے رکھا
پھر بھی ن یاد ہے رکھا
اور رہے نا ہم ناراض بھی
تو زخم دے مجھے چاہ کے بھی
بولوں میں نصیب
ہائے کیا پتا اتنا غم دیکر
خوش رہنے کی صلاح دوگے تم
انکھیاں نا سوئیں یارا
روئے میرا ٹوٹا ہے دل
ایسا ہارا کے
دوبارہ جینا ہوا مشکل
انکھیاں نا سوئیں یارا
روئے میرا ٹوٹا ہے دل
ایسا ہارا کے
دوبارہ جینا ہوا مشکل
یہ کیسی فطرت ہے جانیا
مجھے تو حیرت ہے جانیا
تو پہلے میری حسرت نا جانیا
تو اب میری نفرت ہے جانیا
یہ درد جو تیرے
بھلائے بھی نا جائیں
چھپا بھی سکوں نا
بتائے بھی نا جائیں
بیجرم سجائیں بہت ہی ستائیں
کے دل کو ہائے ہم اب بھی مر جائیں
بےبسی دل میں کتنی ہے دیکھو یارا
ہائے کیا ہوا کیا پتا جانوں نا میں
عشق میرا یہ کیسے زایا ہو گیا
انکھیاں نا سوئیں یارا روئے میرا ٹوٹا ہے دل
ایسا ہارا کے دوبارہ جینا ہوا مشکل
انکھیاں نا سوئیں یارا روئے میرا ٹوٹا ہے دل
ایسا ہارا کے دوبارہ جینا ہوا مشکل
بربادیوں کا میری جناب
آنے کی جو وجہ بتاؤں
تو ہی ہے نوبت تو ہی مصیبت
تو ہی قیامت جانیا
عاشق دنیا بھر کے سارے
سب کچھ اپنا عشق میں ہارے
فنا ہوئے تباہ ہوئے
بکھر گئے ہیں جانیے
بربادیوں کا میری جناب
آنے کی جو وجہ بتاؤں
تو ہی ہے نوبت تو ہی مصیبت
تو ہی قیامت جانیا
عاشق دنیا بھر کے سارے
سب کچھ اپنا عشق میں ہارے
فنا ہوئے تباہ ہوئے
بکھر گئے ہیں جانیے
If you enjoyed Nafrat lyrics in Hindi, please share it with your friends and family. We work hard to get you the latest updates.