چھلکے پلکوں کے پیچھے
چھلکے تنہا آنسو کوئی
تیری یاد جب ستائے
وہ چکلے چکا جائے یوہی
ایس خط کی جو ہیں شیاہی
سن میرے آنسوں سے ہیں بنی
میرا درد بھی تو ہی ہیں
جانا ہیں دوا تو میری
ایک میٹھا مرض دینے
آنا تم یوںہی
ایک دوا کا قرض دینے
آنا تم یوںہی
سنی سنی راتوں میں
کھویے کھویے خوابوں میں
آنا آنا یوں ہی
ایک میٹھا مرض دینے
آنا تم یوںہی
ایک دوا کا قرض دینے
آنا تم یوںہی
تم جو نہیں تو
زندگی کے اندھیرے روشن نہیں
تم جو نہیں تو
زندگی کی تصویری میں رنگ نہیں
چندا نہیں سورج نہیں
جو تو نہیں کچھ بھی نہیں
تھوڑی چندنی لوٹا نے
آنا تم یوں ہی
تھوڑی دھوپ چکڑ جانے
آنا تم یوں ہی
تم جو نہیں تو میں سکھی ہیں غزل
کوئی سر نہیں
تم جو نہیں تو میں سنی ہیں ڈگر
منزل نہیں
تم جو نہیں تو میرے سوکھے نیننو میں کاجل نہیں
تم جو نہیں تو میرے پاؤ بجے پائل نہیں
ساون نہیں بھادو نہیں
جو تم نہیں کچھ بھی نہیں
ایک میٹھا مرض دینے
آنا تم یوںہی
ایک دوا کا قرض دینے
آنا تم یوںہی
سنی سنی راتوں میں
کھویے کھویے کھوابوں میں
آنا آنا یوں ہی
ایک میٹھا مرض دینے
ام ام ام
ایک دوا کا قرض دینے
ام ام ام
چھلکے پلکوں کے پیچھے
چھلکے تنہا آنسو کوئی
تیری یاد جب ستائے
وہ چکلے چکا جائے یوہی
چھلکے پلکوں کے پیچھے
چھلکے تنہا آنسو کوئی
تیری یاد جب ستائے
وہ چکلے چکا جائے یوہی۔
If you enjoyed Ek Meetha Marz De Ke lyrics in Hindi, please share it with your friends and family. We work hard to get you the latest updates.