گلیاں گلیاں دربادر دھنڈو
کھدکو ایے ہمسفر
گلیاں گلیاں دربادر دھنڈو
کھدکو ایے ہمسفر
چپچھپ سی آواز بھی ہیں
چھلنی چھلنی جاجبات بھی ہیں
پیروں کے نیچے سے زمین
سر سے امبر بھی گیا
آئے زندگی میں چلا
میں چلا بن کے ایک زلزلہ
آئے کھدا رہ دکھا
مجھکو مجھی سے آج ملا
رکھ پتھ نہیں کوئی کفن
بھی بندھ چلا ہوں
کھوپھ نہیں کوئی ہمت بھی
ساتھ بڑا ہو
رکھ پتھ نہیں کوئی
کفن بھی بندھ چلا
کھوپھ نہیں کوئی ہمت بھی
ساتھ بڑا ہو
نا آیا گھر اگر لوٹ کے
آج تو ایسا من لےنا
کھدا سے ملنینج میں جنت چلا ہو
آئے زندگی میں چلا
میں چلا بن کے ایک سر چلا
آئے کھدا رہ دکھا
مجھکو مجھی سے آج ملا
ہاتھ ٹھنڈے ہیں
جسم ٹھنڈا ہیں
روح کمزور نہیں
جنونے جاجبا ہیں
لہو جو کھولا ہیں
رہ پھروٹ نہیں
آ گیا میں خود
کو دھنڈھنے آج تو
فناہ ہیں مجمے
موجڑ کوئی وجد نہیں
آئے زندگی میں چلا
میں چلا بن کے ایک زلزلہ
آئے کھدا رہ دکھا
مجھکو مجھی سے آج ملا
آئے زندگی میں چلا
میں چلا بن کے ایک زلزلہ
آئے کھدا رہ دکھا
مجھکو مجھی سے آج ملا۔
If you enjoyed Galiyan lyrics in Hindi, please share it with your friends and family. We work hard to get you the latest updates.