جاگ آنکھیں کھول چپ کیو ہیں بول
میرے بھگوان یہ کیا ہو رہا ہیں
میرے بھگوان یہ کیا ہو رہا ہیں
کہا تیرا انصاف ہیں
کہا تیرا دستور ہیں
کہا تیرا انصاف ہیں
کہا تیرا دستور ہیں
میں تو ہو مجبور او بھگوان
میں تو ہو مجبور او بھگوان
کیا تو بھی مجبور ہیں
کہا تیرا انصاف ہیں
کہا تیرا دستور ہیں
کہا تیرا انصاف ہیں
کہا تیرا دستور ہیں
سب کہتے ہیں تنے
ہر ابلا کی لاج بچائی
آج ہوا کیا تجھکو
تیرہ نام کی رام دہائی
ایسا ظلم ہوا تو ہوگی
تیری بھی رسوائی
تیری بھی رسوائی
آنکھوں میں آنسو بھرے ہیں
دل بھی گھام سے چور ہیں
کہا تیرا انصاف ہےکہا تیرا دستور ہیں
میں تو ہو مجبور او بھگوان
کیا تو بھی مجبور ہیں
کہا تیرا انصاف ہیں
کہا تیرا دستور ہیں
کیسا اتیاچار ہیں
شادی یا ویوپر ہیں
دولت میں سب زور ہیں
دھرم بڑا کمزور ہیں
بکتے ہیں سنسار میں
انسا بھی بازار میں
دنیا کی یہ ریت ہیں
بس پیسے کی جیت ہیں
ایسا اگر نہیں ہیں تو
سچ بھگوان کہی ہیں تو
سچ بھگوان کہی ہیں تو
میرے سامنے آئے وہ
یہ وشوش دلایے وہ
میرے سامنے آئے وہ
یہ وشوش دلایے وہ
میرے سامنے آئے وہ
یہ وشوش دلایے وہ
میرے سامنے آئے وہ
یہ وشوش دلایے وہ۔
If you enjoyed Kaha Tera Insaaf Hai lyrics in Hindi, please share it with your friends and family. We work hard to get you the latest updates.